Urdu Portals Pakistan Breaking News & Urdu Latest News
Just another WordPress site

بچپن میں گھریلو تشدد، جوانی میں ناگہانی موت کی وجہ بن سکتا ہے

مشرقی آسٹریلیا:(اردو پورٹلز تازہ ترین اخبار۔ 16 دسمبر 2020) اگر بچے کو بالخصوص ابتدائی عمر میں ہی گھروں میں حد سے زیادہ تشدد، نظرانداز کیے جانے اور ہر طرح کے جور و جفا کا سامنا کرنا پڑے تو اس سے دیگر بچوں کے مقابلے میں اوائل عمر میں فوت ہونے کا خطرہ دوگنا ہوسکتا ہے۔
اپنی نوعیت کے پہلے اور وسیع مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ پوری دنیا کے مختلف ممالک اور معاشروں میں 15 سے 50 فیصد بچوں کو خود ان کے اہلِ خانہ کی جانب سے نظرانداز کرنے اور بہت شدید ظلم وزیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس میں والدین کا نمایاں کردار ہوتا ہے۔
اس صورتحال کے بعد بچہ تعلیم سے دور رہ جاتاہے، بے راہروی اور نشے کی جانب راغب ہوتا ہے، جرائم کا ارتکاب کرتا ہے، رشتوں میں توازن نہیں رکھ پاتا اور روزگار کی تلاش میں دقت محسوس کرتا ہے۔ یہ تمام عوامل اس کی نفسیاتی، جسمانی اور دماغی کیفیات متاثر کرتے ہیں۔ اس سے پوری شخصیت متاثر ہوتی ہے اور یوں موت کے کنارے تک لے جاسکتی ہے۔
یونیورسٹی آف ساؤتھ آسٹریلیا کے ماہرین نے اس رحجان کا جائزہ لینے کے لیے 1986 کے بعد پیدا ہونے والے 331,000 ایسے نوجوان لڑکے لڑکیوں کا جائزہ لیا ہے جن میں کی 20 فیصد تعداد کو بچوں کے حفاظتی پناہ کے پروگرام کے تحت زیرِ کفالت رکھا گیا تھا۔ اس طویل مطالعے میں 980 افراد، 16 سے 33 سال کی عمر میں دنیا سے گزرچکے تھے۔
مرنے والوں میں کثرتِ شراب نوشی، زہرخورانی، دماغی و نفسیاتی مسائل دیگر افراد سے پانچ گنا زائد تھے جبکہ جو افراد حکومتی تحفظ کے زیرِ کفالت رہے ان میں یہ رحجان نہیں دیکھا گیا اور وہ بہتری کی جانب گامزن رہے۔ اگرچہ یہ ایک اہم تحقیق ہے لیکن اب تک کسی نے اس جانب توجہ نہیں کی تھی۔
اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ بچپن میں شدید جبر اور برے سلوک کے شکار افراد میں دوسروں کے مقابلے میں قبل ازوقت موت کا خطرہ دوگنا ہوجاتا ہے۔ اس طرح وہ بچے جو شدید ظلم کی وجہ سے حکومتی یتیم خانوں کی کفالت میں ہیں اگر انہیں ایسے ہی چھوڑ دیا جاتا تو ان میں قبل ازوقت موت کا خطرہ چار گنا تک بڑھ جاتا ہے۔
اپنی تحقیق میں سائنسدانوں نے حکومت، والدین، اساتذہ اور معاشرے کے تمام حساس افراد سے درخواست کی ہے کہ وہ ہر صورت بچوں کے ساتھ بہتر سلوک کریں اور مل جل کر انہیں معاشرے کا بہتر فرد بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ ماہرین نے اسے دنیا کے تمام معاشروں اور ممالک کے لیے ایک چیلنج قرار دیا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.